جے پور،11نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) راجستھان کی ریاستی صدر ہونے کے معاملے میں وسندھرا راجے کی ضد کے سامنے سرینڈر کر چکے بی جے پی صدر امیت شاہ ٹکٹ تقسیم کے مدعے پر ان سے دو دو ہاتھ کرنے کے موڈ میں ہیں۔
شاہ نے اپنی سطح پر کروائے سروے اور سنگھ اور متعلقہ تنظیموں کی گراؤنڈ رپورٹ کی بنیاد پر آدھے سے زیادہ ایم ایل اے کے ٹکٹ پر تلوار لٹکا دی ہے، لیکن وسندھرا 20 فیصد سے زیادہ ایم ایل اے کے ٹکٹ کاٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
غور طلب ہے کہ راجے گزشتہ31 اکتوبر کو اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے امیدواروں کے نام طے کرنے کے لئے امیت شاہ سے ملی تھیں۔ اس دوران سابق ریاستی صدر اشوک پرنامی اور پنچایتی راج کے وزیر راجیندر راٹھوڑ بھی ان کے ساتھ تھے۔
ذرائع کے مطابق وہ جو فہرست اپنے ساتھ لے گئی تھیں اس میں 90 نام تھے۔اس فہرست کو راجے نے جئے پور اور رنک پور میں ہوئی رائے شماری کے بعد آخری شکل دی تھی۔غور طلب ہے کہ ریاست کی بی جے پی کی طرف سے 12 ہزار کارکنان اور عوامی نمائندوں سے پارٹی امیدوار کے بارے میں رائے پوچھی گئی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی بنیاد پر 90 سیٹوں پر سنگل نام کا پینل تیار کیا گیا۔
وسندھرا کو امید تھی کہ شاہ جاتے ہی اس فہرست پر مہر لگا دیں گے، لیکن ہوا اس کا الٹا۔دراصل، سب سے پہلے شری گنگا نگر ضلع کی سیٹوں پر چرچہ شروع ہوئی۔یہاں کی ایک سیٹ پر وسندھرا موجودہ بزرگ ایم ایل اے کی جگہ ان کے بیٹے کا نام طے کر کے گئی تھیں۔جانکاری کے مطابق اس کو دیکھتے ہی امیت شاہ کی تیوریاں چڑھ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ایم ایل اے جیتنے کی حالت میں نہیں ہے تو ان کا بیٹا کیسے جیت درج کرے گا۔
بی جے پی سے جڑے ذرائع کے مطابق، امیت شاہ نے اپنی طرف سے کرائے گئے سروے اور گراؤنڈ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کڑے لہجے میں کہا کہ پارٹی اس کو ہی ٹکٹ دے گی جو جیتنے کی حالت میں ہوگا۔ صرف اس بنیاد پر کسی کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا کہ وہ وزیر، ایم ایل اے، بڑا رہنما یا کسی کا چہیتا ہے۔
انتخاب راجستھان میں پھر سے حکومت بنانے کے لئے لڑا جا رہا ہے نہ کہ کسی پر مہربانی کرنے کے لئے۔شاہ کے تلخ تیور سے مبہوت وسندھرا نے دلیل دی کہ جو لوگ پارٹی اور ان سے لمبے وقت سے جڑے ہوئے ہیں ان کو اندیکھی کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ ان لوگوں کو ساتھ لیکر نہیں چلیں گے تو انتخاب میں نقصان ہوگا، لیکن راجے کی اس دلیل سے امیت شاہ متفق نہیں ہوئے۔
ذرائع کے مطابق، امیت شاہ نے ریاست کی قیادت کو تمام سیٹوں پر کم سے کم 3 دعوے دار کا پینل بناکر لانے کے لئے کہا ہے۔ ساتھ ہی ہر سیٹ کے ذات پات والے اعداد و شمار، 5 سال میں ہوئے ترقیاتی کام، 2013 کے اسمبلی انتخاب کا ووٹنگ پیٹرن، موجودہ سیاسی، سماجی اور کمیونٹی کی تفصیلات تیار کرنے کے لئے کہا ہے۔بی جے پی صدر نے رپورٹ میں ٹکٹ کے دعوے دار کی فہرست کے ساتھ موجودہ ایم ایل اے کا ٹکٹ کاٹنے کی حالت میں باغی ہونے سے روکنے کی اسکیم کو بھی شامل کرنے کے لئے کہا ہے۔ ان کی اس ہدایت پر عمل کرنے کے لئے آناًفاناً بی جے پی کے 15 رہنماؤں کو فیڈ بیک لینے ضلع صدر دفتر پر بھیجا گیا۔گلاب چند کٹاریا، راجیندر راٹھوڑ، اویناش رائے کھنہ، وی ستیش، چندرشیکھر،اوم پرکاش ماتھر، ارجن رام میگھوال، گجیندر سنگھ شیکھاوت، نارائن پنچاریا، اوم بڑلا، راجیندر گہلوت، ہری اوم سنگھ، سی پی جوشی، کرن ماہیشوری اور بھجن لال نے مقامی رہنماؤں اور کارکنان کا من ٹٹولنے کے بعد جو نام طے کئے ہیں ان کو دیکھکر بھی وسندھرا کی پیشانی پر پسینہ آ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 6 وزراء سمیت کل 60 ایم ایل اے کی رپورٹ وسندھرا کی پسند کے برعکس آئی ہے۔ ابھی تو اس فہرست کو امیت شاہ کے پاس موجود رپورٹ سے ملان ہونا باقی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگر راجستھان میں ٹکٹ تقسیم کا ‘ شاہ فارمولا ‘ نافذ ہوا تو آدھے سے زیادہ ایم ایل اے کا ٹکٹ کٹنا طے ہے۔ریاست کی بی جے پی میں چل رہی بحث کے مطابق امیت شاہ، سنگھ کے سروے میں آدھے سے زیادہ ایم ایل اے کے خلاف رپورٹ آئی ہے۔ ان میں کئی ایسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں حکومت کے وزیر اور وسندھرا کے چہیتے بڑے رہنما بھی ہیں۔ راجے کسی بھی صورت میں اپنوں کے ٹکٹ پر قینچی نہیں چلنے دیں گی۔اس حالت میں وسندھرا راجے اور امیت شاہ کے درمیان کشیدگی طے ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دوسرا موقع ہوگا جب ان دونوں کے درمیان سیاسی تصادم ہوگا۔ اس سے پہلے ریاستی صدر کے معاملے میں وسندھرا کے شاہ آمنے سامنے ہوئے تھے۔ تب راجے کی ضد کے سامنے بی جے پی صدر کو سرینڈر کرنا پڑا تھا۔غور طلب ہے کہ اسی سال فروری میں دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی ہارکے بعد مرکزی قیادت نے وسندھرا کے ‘یس مین’مانے جانے والے اشوک پرنامی سے 16 اپریل کو استعفیٰ لیا تھا۔
امیت شاہ اس عہدے پر مرکزی زراعت کے ریاستی وزیر گجیندر سنگھ شیکھاوت کو بٹھانا چاہتے تھے۔نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھی شیکھاوت کوریاستی صدر بنانا چاہتے تھے، لیکن وسندھرا راجے نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔ پارٹی کی مرکزی قیادت نے راجے کو راضی کرنے کے لئے تمام کوشش کئے، لیکن وزیراعلیٰ ٹس سے مس نہیں ہوئیں۔آخرکار مودی اور شاہ کی پسند پر وسندھرا کا ویٹو بھاری پڑا اور مدن لال سینی ریاستی صدر بنے۔نریندر مودی کے وزیر اعظم اور امیت شاہ کے بی جے پی صدر بننے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ان دونوں کو پارٹی کے کسی علاقائی صوبہ دار نے نہ صرف سیدھا چیلنج دیا، بلکہ گھٹنے ٹیکنے پر بھی مجبور کر دیا۔